IntroDuction (تعارف)

دعوتِ اسلامی کی مجلس خُدَّامُ المساجد کامختصرتعارف

حضرت سیَّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جو حلال مال سے مسجد بنائے گااللّٰہ پاک اس کے لئے جنَّت میں موتی اور یاقوت کا گھر بنائے گا۔ (طبرانی اوسط ،4/17، حدیث:5059)

اَلْحَمْدُلِلّٰہ!عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی تادمِ تحریر(ربیع الاول 1440ھ مطابق نومبر2018)اپنا مدنی پیغام دنیا کے تقریباً200سےزائدممالک میں پہنچا چکی ہے۔(اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ! دعوتِ اسلامی 105سے زائد شعبوں میں سنّتوں کی خدمتوں میں مشغول ہے۔ انہی شعبوں میں سے ایک شعبہ  ) خُدّامُ المساجد‘‘ہے۔

مسجد کو دینِ اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔یہ اللہ پاک   کاگھر ہے،یہ قراٰن وسنّت حاصل کرنےکابنیادی ذریعہ ہے، مسلمان یہاں  انفرادی اوراجتماعی طور پر اللہ پاک کی عبادت کرتے ہیں۔مساجد کی ضَرورت کے پیشِ نظر عالمی مدنی مرکز کے بعد پہلی مسجد کنزالایمان تعمیر کی گئی اور اس کےبعد امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے چند اسلامی بھائیوں پر مشتمل ایک مجلس بنائی اور اس کا نام مجلس خدّام المساجد رکھا اور ذہن دیا کہ پوری دنیا میں دعوتِ اسلامی کے تحت مساجد بنائی جائیں۔ مجلس خدّام المساجد مساجد کی جگہ، خریداری، وقف کے تمام معاملات شرعی،قانونی اور تنظیمی تمام اصولوں کے مطابق کرتی ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ! مجلس خدّام المساجد اب تک سینکڑوں مساجدبنا چکی ہےاور مزید تعمیراتی مراحل میں ہیں ، روزانہ کے حساب سے دنیا بھر میں دو2 مساجد بنانے کاسلسہ جاری ہے۔

لہٰذاجن علاقوں یا شہروں میں  مساجد کی ضَرورت ہوتی ہےوہاں خدّام المساجد کے ذمہ داراپنے نگران سےمشاورت اور دارُالافتاءاہلسنّت سے شرعی رہنمائی کے بعدپلاٹ کے حصول کی کوشش کرتے ہیں ،بالخصوص نئے ٹاؤن اور کالونیز میں مسجد کی جگہیں  حاصل کرکےتعمیراتی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر مسلمانوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی راحت کا سامان کرتے ہیں۔ مجلس خدّام المساجد کے تحت تعمیر ہونے والی یازیرِتعمیر مساجد کی تصاویر مع تفصیلی البم کی صورت میں موجود ہیں۔مسجدکے پلاٹ کی خریداری سے لےکراس کی تعمیر و توسیع اور اشیاء کے حصول تک لاکھوں لاکھ روپے اخراجات آتے ہیں۔یہ تمام اخراجات عاشقانِ رسول کی طرف سےدئیے جانےوالے عطیات سے پورے کئے جاتے ہیں۔آئیے! مجلس خدّام المساجد کےساتھ مل کراس  کارِ خیر میں حصہ لیں اور دین و دنیا کو بہتربنائیں۔

اللہ کریم  آپ کے رِزْق میں مزید خیروبرکت عطا فرمائے اور آپ کو دونوں جہاں کی بھلائیاں عطا فرمائے۔اٰمین

فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم ہے :

٭بے شک صدَقہ کرنے والوں کو صدَقہ قبر کی گرمی سے بچاتا ہے اور بلا شبہ مسلمان قیامت کے دن اپنے صدَقہ کے سائے میں ہوگا۔ (شعب الایمان ، 3/212)

٭صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا پس صدقہ کیا کرو۔(ترمذی، حدیث: 2325)

’’مساجد و مدارس کیلئے جگہوں کی خریداری نیز پہلے و بعد کی خریدی ہوئی جگہوں کی تعمیرات کیلئے اپنے صدقات سے تعاون فرمائیں‘‘

مجلس خدام المساجد  (دعوتِ اسلامی)